کاروار، 23 / جون (ایس او نیوز) ضلع اتر کنڑا کے ساحلی علاقے میں نیشنل ہائی وے 66 فور لین توسیعی منصوبے کا کام ایک طرف دس سال گزرنے کے بعد بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے تو دوسری طرف اس نامکمل کام کی وجہ سے روزانہ کسی نہ کسی مقام پر جان لیوا حادثات پیش آنے کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ اور ان حادثات اور عوامی جان و مال کے نقصان کی ذمہ داری لینے والا کوئی بھی نہیں ہے ۔
بھٹکل سے کاروار کے ماجالی تک فور لین توسیع کا یہ ٹھیکہ 2013 میں ایک مرکزی کی وزیر ملکیت والی آئی آر بی کمپنی کو دیا گیا تھا ۔ دوسرے اضلاع میں بھی اس منصوبے کا ٹھیکہ اسی کمپنی کو دیا گیا تھا اور وہاں پر تقریباً کام پورا ہو چکا ہے ۔ لیکن اتر کنڑا میں یہ کام اتنی سست رفتاری سے ہو رہا ہے کہ دس سال گزرنے کے باوجود منصوبہ کے مطابق کام پورا نہیں ہو رہا ہے ۔ اس پر مزید ستم ہوا ہے کہ اب تک جتنا کام کیا گیا ہے وہ زیادہ تر غیر سائنٹفک انداز میں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
اس غیر سائنٹفک اور غیر معیاری کام کی وجہ سے اب تک سیکڑوں حادثے ہو چکے ہیں اور درجنوں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں نیشنل ہائی وے کے اطراف بسنے والے لوگوں کے اتنے خطرات پیدا ہوئے ہیں کہ وہاں ان کی چہل پہل بھی خوف کے ماحول میں ہو رہی ہے ۔ شہری علاقے میں بھی جہاں دیکھو ڈیوائیڈر، نامکمل کام کی وجہ سے رستے میں رکاوٹیں، سروس روڈ نہ ہونا، برساتی پانی کی نکاسی کے لئے نالیوں کا انتظام نہ ہونا جیسے سنگین مسائل عوام کے لئے گویا عذاب بن گئے ہیں ۔
اس کے علاوہ ٹھیکیدار کمپنی کی طرف سے سڑک کی تعمیر کا کام مکمل نہ ہونے کے باوجود موٹر گاڑیوں سے ٹول وصولی کا کام پوری مستعدی سے کیا جا رہا ہے ۔ اس کے خلاف آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے سے بھی کوئی اثر نہیں پڑا اور یہ سلسلہ یونہی بے روک ٹوک جاری ہے ۔
اس دوران یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس نامکمل کام کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات اور ان سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا ذمہ دار کون ہے ؟ پولیس کی طرف سے ان حادثوں کے لئے ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف معاملے کیوں درج نہیں کیے جا رہے ہیں ؟ ضلع انچارج وزیر اور اب نو منتخب ایم پی کی طرف سے ٹھیکیدار کمپنی اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کو ذمہ دار بنانے کی دھمکیاں تو دی جا رہی ہیں مگر عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا حقیقت میں آنے والے دنوں میں اس پر عمل بھی ہوگا ؟ لیکن اس کا جواب فی الحال کسی کے پاس بھی نہیں ہے ۔